اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ۔ ابنا ۔ کی رپورٹ کے مطابق ٹیکسلا میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سابق وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ ’میرا مؤقف یہ ہے کہ ہمیں عدالتوں سے محاذ آرائی کے بجائے عدالتوں میں زیر سماعت کیسز کا بھرپور طریقے سے سامنا کرنا چاہیے، یہ نہ تو نواز شریف، نہ ان کی پارٹی، اور نہ ہی ملک کے اداروں کے لیے درست ہوگا‘۔
انہوں نے اس اُمید کا اظہار کیا کہ ’مجھے یہ یقین ہے کہ عدالتیں ان کے سامنے پیش کیے جانے والے ثبوتوں کی بنیاد پر فیصلہ کریں گی‘۔
ایک سوال کے جواب میں وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ ’کوئی بھی خود مختار ملک اپنی سرحدوں میں مشترکہ آپریشن کی اجازت نہیں دے سکتا اور نہ ہی پیش کش کرسکتا‘۔
خیال رہے کہ گذشتہ دنوں یہ رپورٹس سامنے آئیں تھی کہ وزیر خارجہ خواجہ محمد آصف نے امریکا میں اپنے 3 روزہ دورے کے دوران اعلیٰ امریکی حکام کو پاکستان میں دہشت گردوں کے خلاف مشترکہ آپریشنز کرنے کی پیش کش کی تھی، اس حوالے سے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے بھی رواں ہفتے قومی اسمبلی میں آواز اٹھائی تھی۔
چوہدری نثار نے خبردار کیا کہ ’اگر کسی اور طاقت کو اپنے ملک میں آپریشن کرنے کے لیے بلائیں گے، اس سے ملک کا مزاق اڑایا جائے گا‘۔
.......
/169